نماز میں یکسوئی اور منتشر خیالات کا علاج (پیروں کے انگوٹھوں پر نگاہ جمانا اور جسم کی برقی رو کا ارتھ ہونا)

Cultivating Concentration in Salah: Bio-Electric Current Grounding by Gazing at Big Toes to Dissipate Extraneous Thoughts

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: میں جب نماز پڑھتا ہوں منتشر خیالات میں میرا ذہن بھٹکتا رہتا ہے۔ کوئی ایسا عمل بتا دیں کہ نماز میں یکسوئی حاصل ہو جائے؟

وظیفہ مبارک و نقش

نماز کی نیت باندھنے کے بعد نظر دونوں پیروں کے انگوٹھوں پر جمانا تاکہ جسم کی برقی رو زمین میں ارتھ ہو کر خیالات کو ایک نقطہ پر مرکوز کر دے

ترکیب و طریقہ کار

نماز کی نیت باندھنے کے بعد اپنی نظر دونوں پیروں کے انگوٹھوں پر جمائیں۔
اس کی عملی و سائنسی توجیہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر دور کرنے والی برقی رو ہمہ وقت پیروں کے ذریعہ زمین میں ارتھ (Earth) ہوتی رہتی ہے اور یہ برقی رو ہی حواس بننے کا ذریعہ بنتی ہے۔
اگر برقی رو میں ذہن جذب ہو جائے تو منتشر خیالات فوراً ایک نقطہ پر مرکوز ہو جاتے ہیں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital