میں قبرستان میں ہوں اور بچپن کا خوف (ہتھوڑا چلانا، ہم جنس سے عشق کی چوٹ، شہد پر اَلرَّضَاعَتُ عَمَّا نُوِّلَ اور یا حی یا قیوم)
Neurotic Phobia, Past Masturbatory Guilt & Homosexual Heartbreak, 'I Am in a Graveyard' Meditation & Consecrated Honey
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: 12 سال سخت مشقت کی، ہم جنس کے عشق کی چوٹ سے دماغ جلا، بچپن میں ماں کی مار پیٹ اور آسیب زدہ گھر کا خوف دل میں بیٹھا ہے، یادداشت ختم اور دماغ پر دباؤ ہے، خوف نکالنے کا علاج بتائیں۔
وظیفہ مبارک و نقش
رات سوتے وقت 'میں قبرستان میں ہوں اور قبر پر فاتحہ پڑھ رہا ہوں' کا مراقبہ، 3 وقت شہد پر 1 بار 'اَلرَّضَاعَتُ عَمَّا نُوِّلَ' دم کر کے کھانا اور یا حی یا قیوم کا ورد
ترکیب و طریقہ کار
خوف کے خاتمے کا مراقبہ: رات کو سوتے وقت کمرے میں تنہا بیٹھ کر مراقبہ کریں اور تصور کریں کہ 'میں قبرستان میں ہوں اور کسی قبر پر بیٹھا فاتحہ پڑھ رہا ہوں'۔ اس مراقبے سے ہر قسم کا پرانا خوف نکل جاتا ہے۔
روزانہ تین وقت ایک ایک چمچ خالص شہد لیں، اس پر ایک بار 'اَلرَّضَاعَتُ عَمَّا نُوِّلَ' پڑھ کر دم کریں اور چاٹ لیں۔
دن بھر چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، باوضو اور بے وضو کثرت سے 'یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ' کا ورد جاری رکھیں۔
روزانہ تین وقت ایک ایک چمچ خالص شہد لیں، اس پر ایک بار 'اَلرَّضَاعَتُ عَمَّا نُوِّلَ' پڑھ کر دم کریں اور چاٹ لیں۔
دن بھر چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، باوضو اور بے وضو کثرت سے 'یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ' کا ورد جاری رکھیں۔