آنکھوں کا ہم نوا دل
Spiritual Insight on Sins and Remorse / Hadith on Tawbah & Humility
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: با وجودیکہ میں نماز کا پابند ہوں اور گناہوں سے بچنے کی حتی الوسع کوشش کرتا ہوں پھر بھی آنکھ بڑی بے حیا ہے۔ کبھی کبھی دل اس کا ہم نوا بن جاتا ہے جس سے ضمیر پریشان ہوتا ہے۔ کوئی ایسا وظیفہ بتائیں جس سے سکونِ قلب میسر ہو اور گناہوں سے نفرت ہو جائے۔ جواب: حضور سرورِ کائنات ﷺ نے فرمایا: 'اللہ کی قسم، اگر تم لوگ گناہ کرنا چھوڑ دو تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا فرما دے گا'۔ ہماری سرشت میں گناہ کا ارتکاب داخل ہے۔ اگر ہمارے اندر سے گناہ کا ارتکاب نکل جائے تو ہمارے اندر احساسِ ندامت نہیں رہے گا۔ احساسِ ندامت وہ جذبہ ہے جو بندہ کو اللہ کے سامنے جھکاتا ہے اور اسی جذبے سے بندہ اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری کرتا ہے۔
وظیفہ مبارک و نقش
اِحْسَاسِ نَدَامَتْ وَ اِسْتِغْفَارْ
ترکیب و طریقہ کار
گناہ سرزد ہونے پر مایوس ہونے کی بجائے احساسِ ندامت کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں عاجزی، توبہ اور استغفار کریں کیونکہ یہی ندامت انسان کو رب کے قریب کرتی ہے۔
نماز کی پابندی برقرار رکھیں اور دل میں اخلاص اور خوفِ خدا پیدا کریں۔
نماز کی پابندی برقرار رکھیں اور دل میں اخلاص اور خوفِ خدا پیدا کریں۔