زنگ آلود سیاہ دل
Rust-stained Black Heart / Spiritual Hardening
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص دنیا پرست ہو جائے تو اس کا دل سیاہ یا زنگ آلود ہو جاتا ہے، روحانی نقطہ نظر سے اس بات کی وضاحت کریں۔
وظیفہ مبارک و نقش
روحانی تشریح / ملکوتی و بشری توازن
ترکیب و طریقہ کار
انسان کی ذات جو روشنیوں کا مجسمہ ہے۔ اس کے اندر حرکات مسلسل واقع ہوتی رہتی ہیں ایک حرکت ذات کے انوار کا خارج کی طرف متواتر سفر کرتے رہنا اور دوسری حرکت خارج سے روشنیوں کو برابر اپنے اندر جذب کرتے رہنا گو انسان کی روح یا ان کی دو صفات ہیں ایک ملکوتی (اعلیٰ) دوسری بشری (الفس) ان دونوں صفات میں ہر صفت، ایک اصول کی پابند ہے کوئی فرد خارجی دنیا میں جتنا مستغرق ہوتا ہے اس کے نقطہ ذات کی روشنیاں اتنی ہی ضائع ہو جاتی ہیں۔
یہ وہی روشنیاں ہیں جن کی صفت ”ملکوتی“ ایک اصول کے ضائع ہونے سے ملکوتی کی صفت بھی ضائع ہو جاتی ہے نقطہ ذات میں روشنیوں کی ایک معین مقدار ہوتی ہے جو ملکوتی اور بشریت کا توازن قائم رکھتی ہے اگر اس روشنی کی مقدار کم ہو جائے گی تو حیوانی اور مادی تقاضے بڑھ جائیں گے۔
ملکوتی چکی صفت غیب کی دنیا میں سفر کرتی ہے۔ اس کے برعکس بج ملکوتی (اعلیٰ) کی صفت کم ہو جاتی ہے تو مادی تقاضے فرد کو اسفل میں کھینچ لاتے ہیں وہ جتنا اسفل کی طرف بڑھتا ہے اتنا ہی کثافتوں اور نقل میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کی توجہ عالم غیب سے ہٹ کر اسفل میں مقید ہو جاتی ہے اسی کو دل کا سیاہ ہونا یا زنگ آلود ہونا کہا جاتا ہے۔
یہ وہی روشنیاں ہیں جن کی صفت ”ملکوتی“ ایک اصول کے ضائع ہونے سے ملکوتی کی صفت بھی ضائع ہو جاتی ہے نقطہ ذات میں روشنیوں کی ایک معین مقدار ہوتی ہے جو ملکوتی اور بشریت کا توازن قائم رکھتی ہے اگر اس روشنی کی مقدار کم ہو جائے گی تو حیوانی اور مادی تقاضے بڑھ جائیں گے۔
ملکوتی چکی صفت غیب کی دنیا میں سفر کرتی ہے۔ اس کے برعکس بج ملکوتی (اعلیٰ) کی صفت کم ہو جاتی ہے تو مادی تقاضے فرد کو اسفل میں کھینچ لاتے ہیں وہ جتنا اسفل کی طرف بڑھتا ہے اتنا ہی کثافتوں اور نقل میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کی توجہ عالم غیب سے ہٹ کر اسفل میں مقید ہو جاتی ہے اسی کو دل کا سیاہ ہونا یا زنگ آلود ہونا کہا جاتا ہے۔