ذہنی الجھنیں (حد سے زیادہ سوچنے اور بات کا بوجھ بنانے کا علاج)

Chronic Overthinking, Mental Confusion & Over-analyzing Small Incidents

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: بچپن سے ہی میری عادت ہے کہ میں بہت زیادہ سوچتا ہوں یعنی حد سے زیادہ سوچنے کا عادی ہوں۔ کوئی معمول سی بات یا چھوٹا سا مسئلہ ذہن میں آ جائے تو بس اس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ رائی کے دانے کو پہاڑ بنا لیتا ہوں اور دائمی ذہنی الجھنوں کا مریض بن گیا ہوں۔ جواب: قانونِ تخلیق کے تحت انسانی ذہن تین پرت کا مجموعہ ہے۔ ہر پرت کے محسوسات ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ ان تینوں میں ایک پرت وہ ہے جو خیال کو تصور بنا کر جسدِ خاکی میں منتقل کرتا ہے۔ جسدِ خاکی تصورات کو معنی کا لباس پہنا کر خوشی اور غم کے نقش و نگار ترتیب دیتا ہے۔ اس کو اگر ایسی معلومات فراہم کی جائیں جو خوشی کا پیش خیمہ ہوں تو اس کے اندر خوشی کے طوفان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ایسی اطلاعات فراہم کی جائیں جن کا تعلق رنج و غم سے ہو تو اس کے اندر مایوسی، بے کیفی، احساسِ کمتری، زندگی سے بیزاری اور نِت نئی الجھنیں جنم لینے لگتی ہیں۔ یہ پرت بالکل غیر جانبدار رہتا ہے۔ طریقہ یہ ہوگا کہ صبح اندھیرے اٹھے اور جھٹ پٹے میں کم از کم دو میل روزانہ ٹہلئے۔ زیادہ سے زیادہ تین ہفتے میں آپ الجھنوں سے نجات حاصل کر لیں گے، لیکن فطرت سے قریب ہونے کا یہ طریقہ کم سے کم تین ماہ جاری رکھئے۔

ترکیب و طریقہ کار

صبح پو پھٹنے سے پہلے (اندھیرے اور جھٹ پٹے کے وقت) بیدار ہوں۔
کھلی ہوا اور قدرتی ماحول میں کم از کم ۲ میل (تقریباً ۳ کلو میٹر) تیز قدموں سے ٹہلیں۔
اس عادت کو بلا ناغہ کم از کم ۳ ماہ جاری رکھیں۔ (انشاء اللہ ۳ ہفتوں میں افاقہ ظاہر ہوگا)۔

احتیاط و قواعد

صبح سویرے کی ٹہل بلا ناغہ ۳ ماہ تک جاری رکھیں اور منفی سوچوں کا تجزیہ کرنا بند کریں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital