زنانی آواز (مردوں میں لڑکیوں جیسی باریک آواز/نسوانیت کا روحانی علاج)
High-Pitched Feminine Voice in Males (Puberphonia) Spiritual Remedy
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: میں لڑکا تو ہوں لیکن میری آواز بالکل لڑکیوں جیسی پتلی، باریک اور ہلکی ہے۔ میں زیادہ تیز بول ہی نہیں سکتا۔ جتناتیز بولنے کی کوشش کرتا ہوں آواز اتنی ہی حلق میں اٹک جاتی ہے اور اگر نکلتی بھی ہے تو لڑکیوں کی طرح باریک ہوتی ہے۔ سب رشتہ دار اور دوست مجھے فلمی گلوکاروں کے نام سے بلاتے ہیں۔ نور جہاں اور ناہید اختر سے میری آواز ملاتے ہیں۔ دوچار لوگوں میں بیٹھ کر باتیں نہیں کر سکتا۔ اس وجہ سے میں زیادہ تر گھر پر پڑا رہتا ہوں اور شدید احساسِ کمتری کا شکار ہو گیا ہوں۔ ہر وہ لڑکا جس کی آواز مردوں جیسی ہو مجھے اپنے سے بلند لگتا ہے اور میں اپنے آپ کو اس سے کمتر سمجھتا ہوں۔ اسی لئے کالج میں داخلہ نہیں لیا کیونکہ اسکول میں ہی سب لڑکوں کی آواز بدل گئی تھی لیکن میں ایک بد نسیب تھا جس کی آواز وہی رہی۔ ڈاکٹروں کو بھی میں نے اپنا حلق دکھایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اب کبھی دو آوازیں نکلتی ہیں، ایک باریک اور ایک ذرا موٹی۔ وہ بھی حلق کا پورا زور لگانے سے جس سے حلق دکھنے لگتا ہے۔ جواب: ایک کھلے منہ کا کورا گھڑا لیجئے۔ صبح سویرے اٹھ کر اس وقت جب سب گھر والے سو رہے ہوں چھت پر یا کسی مخصوص کمرے میں اور گھڑے کے اندر منہ ڈال کر دونوں ہاتھ گھڑے کے کناروں پر اس طرح رکھ لیں کہ چہرے کا آدھا حصہ ہاتھوں کے اندر آ جائے اور بلند آواز سے سورہ رحمن کی تلاوت کریں۔ سورہ رحمن اگر یاد نہ ہو تو حفظ کر لیں۔ کوئی بڑی سورہ نہیں ہے۔ آسانی سے یاد ہو جائے گی۔ جب تک آپ کی آواز کی نسوانیت ختم نہ ہو یہ عمل جاری رکھیں۔
ترکیب و طریقہ کار
صبح سویرے خاموشی کے وقت چھت پر یا تنہا کمرے میں جائیں۔
گھڑے کے کناروں پر دونوں ہاتھ رکھ کر چہرے کا آدھا حصہ گھڑے کے اندر رکھیں۔
بلند آواز سے پورا سورہ رحمن پڑھ کر گھڑے کے اندر تلاوت کریں۔
اگر سورہ رحمن یاد نہ ہو تو اسے حفظ کر لیں۔
جب تک آواز میں مردانہ دبدبہ پیدا نہ ہو اور نسوانیت ختم نہ ہو یہ عمل روزانہ جاری رکھیں۔