روح اور اسلام (طرزِ فکر کی منتقلی اور حضرت امام غزالیؒ و حضرت ابوبکر شبلیؒ کا سبق آموز واقعہ)

Spirit & Islam: Transfer of Mental Framework (Tarz-e-Fikr) & Story of Imam Ghazali & Hazrat Shibli

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: عظیمی صاحب! طرزِ فکر کیا ہوتی ہے؟ جواب: ایک آدمی آنکھوں پر چشمہ نہیں پہنتا وہ جو کچھ دیکھتا ہے براہِ راست دیکھتا ہے۔ دوسرا آدمی چشمہ لگاتا ہے، وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے اس کے دیکھنے میں گلاس میڈیم بن جاتا ہے۔ اب اسی مثال کو اور زیادہ گہرائی میں بیان کیا جائے تو اس طرح کہا جائے گا کہ عینک میں اگر سرخ رنگ کا گلاس ہے تو ہر چیز سرخ نظر آئے گی، نیلا گلاس ہے تو ہر چیز نیلی نظر آئے گی۔ جس طرح انسانی تقاضے اور انسان کی نظر لوحِ محفوظ پر نقش ہے۔ اسی طرح شیشہ اور شیشے کی تمام صلاحیتیں بھی لوحِ محفوظ پر نقش ہیں۔ جب ہم کسی رنگین شیشے کو اپنا میڈیم بنائیں گے تو نظر وہی دیکھے گی جو ہمیں شیشہ دکھائے گا۔ طرزِ فکر دو طرح کام کرتی ہے: ایک بالواسطہ اور ایک براہِ راست۔ روح اور باطنی علوم دراصل استاد کی طرزِ فکر کو اپنے اندر منتقل کرنے کا نام ہے۔ امام غزالیؒ کا ایک واقعہ ہے کہ وہ اپنے وقت کے یگانہ روزگار عالم تھے لیکن باطنی سکون کی تلاش میں جب حضرت ابوبکر شبلیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت شبلیؒ نے فرمایا: 'غزالی! آ گیا؟ تو نے بہت وقت ضائع کر دیا'۔ شریعت میں علم پہلے ہے عمل بعد میں، اور طریقت میں عمل پہلے ہے علم بعد میں۔ حضرت شبلیؒ نے فرمایا کہ بازار میں جاؤ، ایک بوری کھجوریں تقسیم کرو اور اعلان کرو کہ جو میرے سر پر ایک چپت لگائے گا اسے ایک کھجور ملے گی۔ تین سال تک امام غزالیؒ نے یہ خدمت کی، جس کے نتیجے میں ان کی انا (Ego) ختم ہو گئی اور باطنی طرزِ فکر منتقل ہو گئی۔

ترکیب و طریقہ کار

اپنی 'انا' (Ego) کی نفی کریں؛ کیونکہ انا کی موجودگی میں باطنی و روحانی علم منتقل نہیں ہو سکتا۔
استاد و رہنما کے احکام پر غیر مشروط عمل پیرا ہو کر عاجزی اور انکساری اختیار کریں۔
کائنات اور وجود کے حقائق پر تفکر کے ذریعے اپنی سوچ کو محمدی طرزِ فکر پر ڈھالنے کی کوشش کریں۔

احتیاط و قواعد

انا اور علم کے غرور سے بچیں اور عاجزی اختیار کریں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital