درخت اور نباتات کا احساس و تبادلۂ خیالات (تھاٹ ویوز/ٹیلی پیتھی کا روحانی قانون)
Do Trees & Plants Communicate? (Spiritual Law of Thought Waves & Universal Telepathy)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: پچھلے دنوں ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا کہ پودے اور درخت بھی سوچنے، سمجھنے اور گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ علمِ روحانیت اس موضوع پر کیا کہتا ہے؟ اگر یہ بات درست ہے تو ہمیں ان کی گفتگو سنائی کیوں نہیں دیتی؟ جواب: انسان الفاظ کے ذریعے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، بالکل اسی طرح درخت اور دوسرے حیوان اپنے جذبات کا اظہار الفاظ کے سہارے کے بغیر کرتے ہیں جسے دوسرا فریق پورے معانی کے ساتھ سمجھتا ہے۔ قرآن پاک میں چیونٹی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی گفتگو کا تذکرہ ہے؛ چیونٹی نے الفاظ میں گفتگو نہیں کی بلکہ خیالات کی لہریں منتقل کیں جنہیں حضرت سلیمان ؑ نے قبول کر کے سمجھا۔ قانون یہ ہے کہ خیالات تمام مخلوق میں الفاظ کے سہارے کے بغیر منتقل ہوتے ہیں۔ انسان تمام حواس میں گونگے بہرے اور اندھے ہیں، تفکر کے ذریعے مراقبہ کر کے انسان جب اس صلاحیت کو بیدار کرتا ہے تو نہ صرف درختوں بلکہ دیگر مخلوقات کی گفتگو بغیر الفاظ سن لیتا ہے۔ اسی صلاحیت کا نام ٹیلی پیتھی (Telepathy) ہے۔
ترکیب و طریقہ کار
الفاظ محض ظاہری سہارا ہیں، اصل مفہوم و معانی فکر اور لہروں کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔
کائنات کی اس لطیف لہر کو محسوس کرنے اور سمجھنے کے لیے مراقبہ اور تفکر کے ذریعے باطنی حواس کو بیدار کریں۔