اسلامی لباس کا تصور (اخلاق، شرم و حیا، اور تقویٰ)
Islamic Concept of Clothing & Attire (Modesty, Culture & Taqwa)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: اسلامی لباس کسے کہیں گے؟ کیا خالص اسلامی لباس عربی لباس ہے یا شلوار قمیض؟ کیا پینٹ، شرٹ، بلاؤز یا اسکرٹ پہننا اسلامی شریعت کے خلاف ہے؟ کیونکہ غیر ممالک میں پرورش پانے والے بچے اپنے مقامی لباس کو ترجیح دیتے ہیں۔ جواب: سورہ اعراف (آیت ۲۶) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ”اے اولادِ آدم! بے شک ہم نے تم پر لباس اتارا ہے جو ڈھانپتا ہے تمہاری شرم گاہوں کو اور باعثِ زینت ہے اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بہتر ہے۔“ قرآن و حدیث میں کسی خاص قومی یا علاقائی لباس (عربی لباس، شلوار قمیض، دھوتی وغیرہ) کو واحد اسلامی لباس قرار نہیں دیا گیا۔ لباس کا بنیادی مقصد سترپوشی (حیا)، زینت اور تقویٰ (پرہیزگاری) ہے۔ لباس کی تراش و خراش، تہذیب اور طرز کا تعلق ملک، معاشرے اور موسمی ضرورتوں سے ہے۔ محض عربی لباس پہن لینے سے کوئی مسلمان نہیں ہو جاتا اور نہ ہی مقامی مناسب و باحیا لباس پہننے سے کوئی دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
مقامی معاشرتی و موسمی ضرورت کے مطابق باحیا، ستیر اور صاف ستھرے لباس کا انتخاب کریں۔
ظاہری لبادے کے ساتھ ساتھ باطنی تقویٰ اور پاکیزگی اخلاق کو ترجیح دیں۔