حسد کی عادت اور مصیبت ٹلتے ہی نماز چھوڑنے کا 'نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ' سے علاج
Nasrum Minallahi Wa Fathun Qareeb Recitation for Envy, Jealousy & Irregular Worship
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: مجھ سے چاہتے ہوئے بھی حسد اور جلن کی عادت نہیں چھوٹتی۔ اس کے علاوہ امتحان یا مصیبت کے وقت تو نماز پڑھتی ہوں لیکن مصیبت ٹلتے ہی نماز چھٹ جاتی ہے۔ اس کا روحانی علاج بتائیں۔ جواب: حسد کی عادت اور مفاد پرستانہ عبادت کی بنیادی وجہ نفس کی کمزوری اور باطنی بے یقینی ہے۔ آیت مبارکہ 'نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ' کا ۳۰۰ بار ورد باطنی تصفیہ کرتا ہے اور حسد و کاہلی کے امراض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔
وظیفہ مبارک و نقش
نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ (۳۰۰ بار)
ترکیب و طریقہ کار
فجر کی نماز کے بعد یا رات کو سونے سے پہلے ۳۰۰ مرتبہ 'نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ' لکھیے۔
پڑھ کر اپنے اوپر پھونک مار لیا کریں۔
اس آیتِ مبارکہ کی برکت سے حسد جیسی روحانی اور ذہنی بیماری سے نجات مل جائے گی۔
پڑھ کر اپنے اوپر پھونک مار لیا کریں۔
اس آیتِ مبارکہ کی برکت سے حسد جیسی روحانی اور ذہنی بیماری سے نجات مل جائے گی۔
احتیاط و قواعد
روزانہ بلا ناغہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں۔