زندگی، وقت اور حالات کا فلسفہ: لوحِ محفوظ کی فلم (کتاب المرقوم)
Philosophy of Life, Time & Reality: The Cosmic Film on Loh-e-Mahfooz (Kitab-ul-Marqoom)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: کسی نے سوال دریافت کیا ہے کہ ”زندگی کے مقام اور حالات کہاں چلے جاتے ہیں؟“ اگر اس کا جواب یہ دیا جائے کہ ”وقت کی بساط پر“ تو وقت خود انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔ آپ ذرا اس پر تفصیل سے روشنی ڈالیں۔ جواب: حیات کیا ہے، بڑے بڑے مفکرین و سائنس دان اس کا جواب دیتے ہوئے طفلِ مکتب نظر آتے ہیں۔ آسمانی کتابوں کا اصل موضوع حیات اور زندگی ہی ہے۔ الہامی کتابوں کا مقصد ”روحانیت“ کا حصول ہے۔ قرآن مجید میں اعلیٰ اور اسفل دونوں زندگیوں کو ”کتاب المرقوم“ (نوشتہ کتاب یا لکھی ہوئی کتاب) کہا گیا ہے۔ موجودہ دورِ سائنس کی روشنی میں اسے ایک ”فلم“ (Film) کا نام دیں تو مسئلہ آسانی سے سمجھ آتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ”زمانے کو برا نہ کہو، (وقت، حالات، زندگی) اللہ ہے۔“ کائنات میں جو کچھ ہو چکا ہے، ہو رہا ہے اور ہونے والا ہے، وہ سب لوحِ محفوظ پر نقش (File) ہے۔ ان نقوش کو جب اللہ تعالی کی تجلی فیڈ (Feed) کرتی ہے تو یہ نقوش مختلف اسکرینوں پر متحرک ہو جاتے ہیں۔ انسان کی سطح پر تین بساط (Screens) پائے جاتے ہیں: (۱) پہلی بساط پر واہمہ و خیالات کا نزول، (۲) دوسری بساط پر تصورات و احساسات، اور (۳) تیسری بساط پر مظاہراتِ خدوخال۔ اسی طرح یہ نقوش دوبارہ ان تین بساط سے گزر کر لوحِ محفوظ میں چلے جاتے ہیں۔ جن صاحبِ دل کو روحانی نقطہ عروج نصیب ہوتا ہے وہ اس کا مشاہدہ کر لیتے ہیں کہ: اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے)۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
شعور کی تینوں بساطوں (واہمہ/خیال، تصور/احساس، مظاہر/جسمانی شکل) کے باطنی ربط کو سمجھیں۔
آیت مبارکہ ”اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ کا باقاعدگی سے مراقبہ کریں اور سمجھیں کہ ہر واقعہ اور حالت اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔