اجمیر شریف کی حاضری اور زاویہ نگاہ (بصارت و روح کا تبادلہ)

Ajmer Sharif Visit & Spiritual Metaphysics of Sight

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: مشہور بزرگ حضرت بابا تاج الدین ناگپوری کی ایک کرامت یوں درج ہے کہ ایک شخص نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ مجھے اجمیر شریف جانے کی اجازت دی جائے۔ بابا صاحب نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہاں جاتے ہو اجمیر یہی ہے۔ اسی لمحے اس شخص نے دیکھا کہ وہ اجمیر میں موجود ہے اور وہاں کی سیر کر رہا ہے۔ ازراہ کرم اس بات پر روشنی ڈالیں کہ ایسا کیوں کر ہوا؟ جواب: اس کرامت کے اصول کو سمجھنے کے لیے انسانی ذات اور زمان و مکان پر مختصر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ انسان کی ذات کا ایک حصہ داخلی ہے اور دوسرا خارجی۔ داخلی حصہ وحدت ہے جہاں نہ زمانیت ہے نہ مکانیت۔ احساس کے صرف تین حصے شاہد، مشہود اور مشاہدہ پائے جاتے ہیں۔ ذات کے خارجی حصے میں یہی احساس زمانیت اور مکانیت دونوں کو احاطہ کر کے ٹھوس شکل میں ظاہر کرتا ہے۔ کسی شخص کا باطن جو اس کی اپنی ذات ہے، امر ربی یا روح کہلاتا ہے اور روح میں کائنات کے تمام اجزاء اور اس کی حرکتیں منقوش اور موجود ہیں۔۔۔ بابا تاج الدین ناگپوری نے اپنی قوت تصرف سے سائل کے اندر ایک مخصوص زاویہ نگاہ پیدا کر کے ذہنی نظارے کو جلا بخش دی۔ اس طرح سائل نے اجمیر کو بالکل اسی طرح دیکھا جس طرح ایک طویل سفر کے بعد وہ اجمیر پہنچ کر وہاں کے مناظر دیکھتا ہے۔

وظیفہ مبارک و نقش

مراقبہ و زاویہ نگاہ کی روحانی بیداری (تصورِ باطن)

ترکیب و طریقہ کار

یہ باطنی راز سمجھیں کہ انسان کی روح (امرِ ربی) زمان و مکان سے بالاتر ہے۔
خارجی حواس سے توجہ ہٹا کر باطنی مراقبے اور روحانی یکسوئی کی مشق کریں۔
روحانی استاد کی توجہ سے اپنے باطنی زاویہ نگاہ کو بیدار کریں۔

احتیاط و قواعد

صرف ظاہری و مادی وسائل پر انحصار کرنے کے بجائے باطنی و روحانی حقائق پر غور و فکر کریں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital