ضدی بچہ (بچے کی ضد، چڑچڑاپن اور کمزوری کا لاشعوری علاج)
Subconscious Affirmation Therapy for Stubborn & Irritable Children
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: 3 سالہ بچہ محمد کامران انتہائی ضدی اور چڑچڑا ہے۔ ہر وقت باہر جانے کی ضد کرتا ہے، دوسروں کی چیزیں چھین لیتا ہے اور صبح روتا ہوا اٹھتا ہے جس سے کمزور ہو رہا ہے۔ جواب: بے جا فرمائشیں پوری کر کے والدین بچے کو ضدی بناتے ہیں۔ بچہ جب رات کو گہری نیند سو جائے تو اس کے قریب کھڑے ہو کر 1 ہفتہ تک یہ جملے پڑھیں: 'کامران! تم بہت سعادت مند لڑکے ہو۔ ضد نہیں کرتے۔ تمہارا دماغ بہت صحت مند ہے۔ تمام باتیں ہونہار اور ہوشیار بچوں کی طرح سوچتے ہو۔ کھیلتے ہو اور خوش رہتے ہو۔' اگر بچہ بیدار ہو جائے تو دوبارہ سونے کا انتظار کریں۔
وظیفہ مبارک و نقش
کامران! تم بہت سعادت مند لڑکے ہو...
ترکیب و طریقہ کار
بچے کی بے جا ضدیں پوری نہ کریں۔
رات کو جب بچہ گہری نیند سو جائے تو اس کے سرہانے کھڑے ہو جائیں۔
ایک ہفتہ تک مسلسل یہ جملے پڑھیں: 'کامران! تم بہت سعادت مند لڑکے ہو۔ ضد نہیں کرتے۔ تمہارا دماغ بہت صحت مند ہے۔ تمام باتیں ہونہار اور ہوشیار بچوں کی طرح سوچتے ہو۔ کھیلتے ہو اور خوش رہتے ہو۔'
اگر بچہ بیدار ہو تو دوبارہ نیند میں جانے پر پڑھیں۔
رات کو جب بچہ گہری نیند سو جائے تو اس کے سرہانے کھڑے ہو جائیں۔
ایک ہفتہ تک مسلسل یہ جملے پڑھیں: 'کامران! تم بہت سعادت مند لڑکے ہو۔ ضد نہیں کرتے۔ تمہارا دماغ بہت صحت مند ہے۔ تمام باتیں ہونہار اور ہوشیار بچوں کی طرح سوچتے ہو۔ کھیلتے ہو اور خوش رہتے ہو۔'
اگر بچہ بیدار ہو تو دوبارہ نیند میں جانے پر پڑھیں۔
احتیاط و قواعد
پیار سے رویہ بدلیں، بچے پر غصہ نہ کریں۔