موت کا خوف، قبرستان اور جنازے کی گاڑی دیکھ کر گھبراہٹ کا علاج (دن رات زیادہ وقت اندھیرے کمرے میں گزارنا، کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد، غذا میں نمک کی کمی، ۱۵ روز)

Thanatophobia, Morbid Panic & Funeral Hallucination Clearance (Dark Sensory-Deprivation Rest, Intensive Ya-Hayyu Ya-Qayyumu Recitation & Dietary Salt Restriction, 15 Days)

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

کسی عزیز کی موت دیکھ کر چمگادڑ یا قبرستان و ایمبولینس سے مسلسل موت کا خوف طاری رہنا اور ذہن کا کام چھوڑ دینا حسیات میں روشنی کی ناہموار شدت اور اعصابی تناؤ کا نتیجہ ہے۔ اندھیرا انسان کی بصری حس کے انتشار کو ٹھنڈا کرتا ہے اور لاشعوری شاک کو زائل کرتا ہے۔ 'یا حیّ یا قیّوم' حیات و بقا کے ازلی اسمائے الہیہ ہیں جو زندگی کے تحفظ کا احساس قلب میں پیوست کرتے ہیں۔ غذا میں نمک کی مقدار کم کرنے سے بلڈ پریشر اور اعصابی تحریک پرسکون ہو جاتی ہے۔

ترکیب و طریقہ کار

دن اور رات کے دوران اپنے زیادہ تر اوقات اندھیرے کمرے میں گزاریں، یعنی نیند کے علاوہ بھی جس کمرے میں بیٹھیں وہاں مکمل اندھیرا ہونا چاہیے۔ حتی الامکان روشنی سے اجتناب کریں۔ ضرورت پڑنے پر روشنی میں جانا پڑے تو مضائقہ نہیں۔
اندھیرے میں بیٹھ کر ہر وقت کثرت کے ساتھ اور چلتے پھرتے 'یا حَیُّ یا قَیُّوْمُ' کا دل ہی دل میں ورد جاری رکھیں۔
اپنے روزمرہ کھانوں میں عام نمک کا استعمال فوری طور پر کم سے کم کر دیں؛ اس سے بہت جلد فائدہ ہوگا۔
یہ تدبیر مسلسل پندرہ (۱۵) دن تک اختیار کریں؛ انشاء اللہ ذہن سے موت، جنازے اور بیماری کا خوف کلیتاً زائل ہو جائے گا۔

احتیاط و قواعد

دن رات اندھیرے کمرے میں زیادہ وقت گزاریں؛ کثرت سے یا حی یا قیوم پڑھیں؛ نمک کی مقدار کم کر دیں؛ ۱۵ روز میں افاقہ۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital