ذہن کھلنے کا ورد اور حکمت کے چشمے ابل پڑنا (اور پوری کائنات فطرت کی کتاب ہے و اشیاء کے الٰہی تخلیقی فارمولوں پر تفکر کی مشق)
Expansion of Intellect & Awakening of Wisdom (Cosmic Book of Nature, Cellular Electro-Charging & Contemplation of Divine Creative Formulas)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
پوری کائنات فطرت کی ایک کھلی کتاب ہے جس میں ہر انسان کو الٰہی قوانین کے مطابق تفکر کی آزادی حاصل ہے۔ تفکر کا مفہوم کسی بھی شے کی حقیقت پر ذہن کو یکسو کر کے یہ جاننا ہے کہ: یہ کیا ہے؟ اسے کس نے پیدا کیا؟ یہ کن اجزا سے بنی ہے؟ اور کائنات میں اس کا کیا مصرف ہے؟ جب سوچ کا یہ تحقیقی و روحانی پیٹرن قائم ہو جاتا ہے تو دماغی خلیات برقی طور پر چارج (Electrically charged) ہونے لگتے ہیں اور لاشعور کے اسرار کو قبول کرنے کی غیر معمولی صلاحیت بیدار ہو جاتی ہے۔
ترکیب و طریقہ کار
کسی مخصوص روایتی وظیفے کے بجائے 'تفکر کا ورد' اپنا معمول بنائیں۔
آپ کو کائنات اور ماحول میں جو بھی شے (درخت، پانی، دھات، پرندہ، ستارہ، یا کوئی بھی مظہر) نظر آئے، اس پر اپنی پوری توجہ مرکوز کریں۔
اپنے اندر یہ تلاش و جستجو بیدار کریں کہ: ''اللہ تعالیٰ نے اس شے کو کن کائناتی فارمولوں، کن رنگین لہروں اور کن عناصر سے تخلیق فرمایا ہے؟ اور اس کا وجود کائنات کے نظام میں کیا خدمت انجام دے رہا ہے؟''
جب بھی مطالعہ کریں یا فارغ بیٹھیں، اشیاء کی باطنی ساخت اور ان کے خالق کے ارادے پر گہرا تفکر کریں۔
اس طرزِ فکر کے نتیجے میں دماغ کے بند گوشے کھل جائیں گے اور فہم، حکمت اور فراست کے چشمے ابل پڑیں گے۔
آپ کو کائنات اور ماحول میں جو بھی شے (درخت، پانی، دھات، پرندہ، ستارہ، یا کوئی بھی مظہر) نظر آئے، اس پر اپنی پوری توجہ مرکوز کریں۔
اپنے اندر یہ تلاش و جستجو بیدار کریں کہ: ''اللہ تعالیٰ نے اس شے کو کن کائناتی فارمولوں، کن رنگین لہروں اور کن عناصر سے تخلیق فرمایا ہے؟ اور اس کا وجود کائنات کے نظام میں کیا خدمت انجام دے رہا ہے؟''
جب بھی مطالعہ کریں یا فارغ بیٹھیں، اشیاء کی باطنی ساخت اور ان کے خالق کے ارادے پر گہرا تفکر کریں۔
اس طرزِ فکر کے نتیجے میں دماغ کے بند گوشے کھل جائیں گے اور فہم، حکمت اور فراست کے چشمے ابل پڑیں گے۔
احتیاط و قواعد
اشیاء کے ظاہری وجود کے بجائے ان کے خالق کے فارمولوں اور حقیقت پر غور کریں؛ دماغی یکسوئی ضروری ہے۔