بچے کی شدید ضد، فرمائشیں، چڑچڑاپن اور کمزوری کا علاج (والدین کے طرزِ فکر کا محاسبہ، گہری نیند میں لاشعوری تلقین / مثبت کلمات کی سرگوشی)

Severe Child Obstinacy, Tantrums & Behavioral Conditioning (Parental Discipline Realignment & Sleep-State Subconscious Affirmation Whisper)

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

انسان کا شعور دو اکائیوں میں بٹا ہوا ہوتا ہے؛ نصف شعور ماں باپ اور قریبی اہل محلہ کے اعمال و طرزِ فکر سے تشکیل پاتا ہے اور نصف پر بیرونی ماحول کا اثر غالب ہوتا ہے۔ بچے کی ہر جائز ناجائز خواہش پوری کر کے اس کی ضد کو پروان چڑھانا دوستی نہیں بلکہ دشمنی ہے۔ جب بچہ رات کو گہری نیند سو جائے تو اس کی شعوری مزاحمت ختم ہو چکی ہوتی ہے؛ اس وقت اس کے سرہانے کھڑے ہو کر تعمیری و مثبت جملے بولنا براہِ راست لاشعور میں پیوست ہو کر اس کی فطرت کو سنوار دیتا ہے۔

ترکیب و طریقہ کار

سب سے پہلے والدین اپنی غلط طرزِ فکر کی اصلاح کریں؛ بچے کی ہر ضد اور بے جا فرمائش ماننے سے سختی سے گریز کریں اور پیار و محبت کے ساتھ اعتدال پیدا کریں۔
رات کے وقت جب بچہ بالکل گہری نیند سو جائے تو اس کے بستر کے قریب کھڑے ہو جائیں۔
ایک ہفتہ (۷ روز) تک مسلسل اس کے سرہانے کھڑے ہو کر واضح اور پرسکون انداز میں یہ عبارت پڑھیں: '' (بچے کا نام) تم بہت سعادت مند لڑکے ہو۔ ضد نہیں کرتے۔ تمہارا دماغ بہت صحت مند ہے۔ تمام باتیں ہونہار اور ہوشیار بچوں کی طرح سوچتے ہو۔ کھیلتے ہو اور خوش رہتے ہو۔''
یہ عبارت پڑھتے وقت اگر بچہ نیند سے چونکے یا بیدار ہو جائے تو خاموش ہو جائیں اور اس وقت تک انتظار کریں جب تک کہ وہ دوبارہ گہری نیند نہ سو جائے؛ گہری نیند سونے پر ہی یہ عبارت مکمل کریں۔
ایک ہفتے کے اس عمل اور والدین کے محتاط رویے سے بچے کی ضد، چڑچڑاپن اور خوامخواہ کی فرمائشیں بالکل ختم ہو جائیں گی۔

احتیاط و قواعد

بچہ گہری نیند سو رہا ہو تب پڑھیں؛ بیدار ہو تو دوبارہ سونے کا انتظار کریں؛ ایک ہفتہ پڑھیں؛ والدین بے جا فرمائشیں ماننا بند کریں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital