شوہر کی طرف سے ذہنی اذیت اور نقاہت کا تدارک (حقوق العباد میں عدمِ خود تلفی، ذاتی حدود اور شوہر کی ذہنی ناپختگی کا ادراک)

Spousal Psychological Trauma, Weight Emaciation & Depression (Doctrine of Non-Self-Harm in Huqooq-ul-Ibad, Personal Boundaries & Emotional Immaturity)

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

حقوق العباد کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ انسان مظلوم بن کر خود کو تباہ کر لے اور یکطرفہ طور پر اپنی جان کو تلف کرے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ذات کے لئے بھی حقوق مقرر فرمائے ہیں۔ اپنے آرام، صحت، خوراک اور ذہنی تحفظ سے غفلت برتنا خود اپنی ذات کی سنگین حق تلفی ہے۔ شوہر کے ظالمانہ اور غیر معقول رویے کو اس کی ذاتی 'ذہنی ناپختگی' سمجھ کر اپنے وجود کو اس کے زیرِ اثر گھلانے کے بجائے اپنی ذات کے حقوق اور حدود کو اولین ترجیح دینا لازمی ہے۔

ترکیب و طریقہ کار

یہ بنیادی اور روحانی قانون ذہن نشین کریں کہ: ''حقوق العباد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یکطرفہ عمل ہو۔ حقوق العباد کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی حق تلفی نہ ہو اور ساتھ ہی اپنی حق تلفی بھی نہ ہو۔''
اگر آپ اپنی صحت، غذا اور نیند کو شوہر کی ناروا باتوں کی وجہ سے برباد کر رہی ہیں تو یہ آپ کی طرف سے اپنی ذات پر ظلم اور اپنی حق تلفی ہے۔
شوہر کے غیر معقول اور تکلیف دہ رویے کو ایک سنجیدہ حقیقت سمجھنے کے بجائے ان کی 'ذہنی ناپختگی' (Emotional/Mental Immaturity) قرار دیں اور ان کے رویے کے اثر کو اپنے دل و دماغ پر لینا بند کریں۔
اپنے کھانے پینے، نیند اور ذاتی سکون کی خود حفاظت کریں۔ خود کو اذیت اور گریہ و زاری کے بھنور سے نکال کر اپنی خود مختار زندگی اور ذاتی حقوق کا احترام بحال کریں۔

احتیاط و قواعد

حقوق العباد میں اپنی جان کی حق تلفی حرام ہے؛ شوہر کے رویے کو ذہنی ناپختگی سمجھیں اور ذہنی تناؤ کو اپنے جسم پر اثر انداز نہ ہونے دیں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital