سانپ کا شدید خوف اور وہم (اور نیولے کی کھوپڑی پیشانی پر ملنا و چڑیا گھر میں ہفتے میں دو بار سانپوں کو غور سے دیکھنا)
Severe Ophidiophobia & Water Pipe Paranoia (Forehead Rubbing with Mongoose Cranium & Bi-Weekly Zoo Snake Desensitization)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
بچپن کے صدمے سے لاشعور میں خوف کی جو گہری لہریں بیٹھ جاتی ہیں، وہ ہر باریک نالی اور تاریک جگہ میں سانپ کا تصور بناتی ہیں۔ کائنات میں نیولے اور سانپ کے درمیان ازلی حیوانی و برقی تضاد ہے۔ نیولے کی کھوپڑی کی ہڈی میں وہ فطری ارتعاش موجود ہوتا ہے جو پیشانی پر ملنے سے اعصابی یادداشت میں سانپ کے خوف کے سگنل کو توڑ دیتا ہے۔ اس کے ساتھ چڑیا گھر میں زندہ سانپوں کو بار بار غور سے دیکھنا شعور کو مانوس کر کے خوف کا مکمل خاتمہ کرتا ہے۔
ترکیب و طریقہ کار
پہلا طریقہ: نیولے کی خشک کھوپڑی (Mongoose skull bone) حاصل کر کے اسے مریض کی پیشانی پر اچھی طرح ملیں؛ اس سے سانپ کا خوف جڑ سے نکل جاتا ہے۔
دوسرا طریقہ: چڑیا گھر (Zoo) کے سانپ گھر (Reptile section) میں جہاں سانپ رکھے جاتے ہیں، ہفتے میں دو بار باقاعدگی سے جائیں۔
وہاں شیشے کے پیچھے موجود زندہ سانپوں کو بغور اور بلا خوف دیکھنے کی مشق کریں۔
یہ مشاہداتی عمل مسلسل پانچ ہفتوں تک جاری رکھیں۔
دوسرا طریقہ: چڑیا گھر (Zoo) کے سانپ گھر (Reptile section) میں جہاں سانپ رکھے جاتے ہیں، ہفتے میں دو بار باقاعدگی سے جائیں۔
وہاں شیشے کے پیچھے موجود زندہ سانپوں کو بغور اور بلا خوف دیکھنے کی مشق کریں۔
یہ مشاہداتی عمل مسلسل پانچ ہفتوں تک جاری رکھیں۔
احتیاط و قواعد
نیولے کی کھوپڑی پیشانی پر ملیں؛ چڑیا گھر ہفتے میں دو بار جا کر سانپوں کو غور سے دیکھیں؛ ۵ ہفتے جاری رکھیں۔