غلیظ خیالات (اور رات ساڑھے دس بجے مٹی کے گملے میں خیالات دفن کرنے کا عمل)

Intrusive Obscene Thoughts & Religious Scrupulosity (10:30 PM Soil-Filled Flowerpot Exhalation Burial Protocol)

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

بعض اوقات ناپسندیدہ اور غلیظ وسوسے دل اور لاشعور میں گرہ بن کر پھنس جاتے ہیں جس سے انسان اپنے ایمان و عقیدے پر بھی شک کرنے لگتا ہے۔ سانس اور ارادے کی قوت کے ذریعے ان منفی لہروں کو مٹی کے اندر پھونک کر دفن کر دینا اور گملے کو دور زمین میں گاڑ دینا ذہن کو ہمیشہ کے لئے اس بوجھ سے آزاد کر دیتا ہے۔

ترکیب و طریقہ کار

ایک خالی گملا خرید کر اس میں مٹی بھر دیجئے۔
رات کو ساڑھے ۱۰ بجے گملے میں کسی چیز کو دفن کرنے کے لئے ایک چھوٹا سا گڑھا بنائیے۔
اب آنکھیں بند کر کے خود سے کہئے کہ ''ذہن میں جتنے غیر پاکیزہ خیالات ہیں، میں نے دفن کر دیئے۔''
یہ کہہ کر گملے میں اس جگہ پر زور سے پھونک ماریئے جو آپ نے خالی کی ہے۔ پھونک مارتے وقت تصور یہ ہو کہ جتنے غیر پاکیزہ خیالات ہیں، ان کی لہریں پھونک کے ذریعے دل سے نکل کر گملے میں اس جگہ جمع ہو گئی ہیں جو آپ نے کھودی ہے۔
آنکھیں کھول کر اس خالی جگہ کو مٹی ڈال کر بند کر دیجئے۔ برے خیالات نکل چکے ہیں، دل کو اچھے خیالات سے بھرنا ہے۔
گملے والا یہ عمل صرف ایک مرتبہ کرنا ہے۔ صبح یہ گملا گھر سے دور لے جا کر زمین میں دبا (دفن کر) دیجئے۔
رات کو سونے سے پہلے مطالعہ جاری رکھیں، ایک مہینے کے بعد کیفیات سے مطلع کریں۔

احتیاط و قواعد

عمل کا وقت رات ۱۰:۳۰ بجے مقرر ہے؛ تصور کامل ہو کہ دل سے گندی لہریں سانس کے ذریعے مٹی میں جا رہی ہیں؛ گملا صبح لازماً گھر سے دور زمین میں دفن کیا جائے۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital