ڈپریشن اور اندھیرے کا شدید خوف (اور 'اندھیرا بھی روشنی ہے' کا فلسفہ و رات تاریکی میں والدہ کے ساتھ پندرہ منٹ پرسکون گفتگو)

Severe Nyctophobia & Claustrophobic Darkness Panic (Philosophy of Darkness as Saturated Light & Nightly 15-Minute Maternal Dialogue in Pitch Darkness)

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

اندھیرا دراصل عدمِ نور نہیں بلکہ روشنی کی وہ شدت ہے جو انسانی بصارت کی محدودیت کی وجہ سے تاریک محسوس ہوتی ہے۔ کائنات میں ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے۔ جب انسان اندھیرے کو روشنی سمجھ کر اس میں ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا ہے تو شعور مانوس ہو جاتا ہے۔ رات کے وقت مکمل اندھیرے میں بیٹھ کر اپنی ماں (والدہ) کے ساتھ پرسکون گفتگو کرنا خوف کے مرکز (Amygdala) کو شانت کر کے لاشعور کو ممتا کے حصار اور امن سے بھر دیتا ہے۔

ترکیب و طریقہ کار

پہلے یہ حقیقت اپنے ذہن میں راسخ کریں کہ اندھیرا کوئی الگ شے نہیں بلکہ وہ بھی روشنی ہے، ہر طرف نور ہے؛ جس کو اندھیرا سمجھ رہے ہیں اس میں نظر جما کر دیکھیں تاکہ شعور اس سے مانوس ہو جائے۔
علاج کا بنیادی عمل: روزانہ رات کو کمرے کی تمام بتیاں بجھا کر مکمل اندھیرے میں بیٹھیں۔
اسی تاریکی میں اپنی والدہ صاحبہ کے ساتھ بیٹھ کر نہایت سکون اور محبت سے ۱۵ منٹ تک معمول کی باتیں کیجئے۔
یہ عمل مسلسل ۳۰ روز تک بغیر ناغہ جاری رکھیں۔

احتیاط و قواعد

کمرہ بالکل تاریک ہو؛ ۱۵ منٹ والدہ سے پرسکون گفتگو کریں؛ خوف کے بجائے اندھیرے کو روشنی کی ایک شکل سمجھیں؛ ۳۰ دن مسلسل کریں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital