نیند میں شریکِ حیات کا گلا دبانے کی غیر ارادی حرکت، طلاق کا اندیشہ، اور قابوس و نسمہ کی بے اعتدالی کا علاج (کھانا آدھی بھوک کھا کر آدھے گھنٹے بعد ۳ گھونٹ پانی پینا، وضو کر کے سفید لباس و سفید بے داغ چادر پر بیٹھ کر ۱۵ تا ۲۰ منٹ سیاہ بادلوں اور بوندا باندی کا مراقبہ اور بے خیال ہو کر سونا)
Involuntary Nocturnal Spouse Strangulation, Somnambulic Violence & Qaboos / Astral-Layer Protrusion (Consuming Meals to Half Satiety with 3 Sips of Water after 30 Mins, Ablution in Pure White Attire upon Spotless White Sheet with 15-20 Min Overcast Rain & Drizzle Visualization Before Silent Sleep)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
طبی و روحانی اصطلاح میں اسے ”قابوس“ کہا جاتا ہے۔ قابوس کی حالت میں انسان کا مادی جسم بستر پر سویا رہتا ہے جبکہ اس کے جسم سے نسمہ یا لطیف پرت (Astral Layer) الگ ہو کر خود مختار حرکات کرنے لگتی ہے، وہ کھاتا پیتا، ہنستا، روتا اور دہشت ناک حرکات کرتا ہے جن کا مادی شعور کو علم نہیں رہتا۔ اس کی بنیادی وجوہات نظامِ ہضم کی خرابی، معدے کا ابھار، اور خیالات میں ناپاکی یا بوجھل وسوسے ہیں۔ سفید رنگ اور آسمانی بادلوں و بوندا باندی کا پُرلطف مراقبہ نسماتی پرت کو واپس مادی جسم کے ساتھ مربوط و پرسکون کر دیتا ہے۔
ترکیب و طریقہ کار
نظامِ ہضم کی اصلاح: کھانا ہمیشہ اتنا کھائیں کہ آدھی بھوک باقی رہے۔ کھانے کے دوران پانی ہرگز نہ پیئیں؛ کھانے کے آدھے گھنٹے بعد صرف تین گھونٹ پانی پیئیں۔
علاج: رات کو تازہ وضو کریں، صاف ستھرے سفید کپڑے پہنیں اور بستر پر ایک بالکل بے داغ سفید چادر بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں۔
آنکھیں بند کر لیں اور یہ تصور قائم کریں کہ آسمان پر گھنے سیاہ بادل چھا گئے ہیں جیسے بارش سے پہلے آتے ہیں اور ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی ہے۔
آپ اس بارش اور بوندا باندی کے پرکیف ماحول میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ پندرہ سے بیس (۱۵–۲۰) منٹ تک اس تصور میں محو رہیں۔
کامیابی کی علامت یہ ہے کہ آپ پر اتنی گہری بے خیالی طاری ہو جائے کہ آپ کو اپنے جسم پر بارش کی ٹھنڈی بوندیں گرنے کا حقیقی احساس ہونے لگے۔
مراقبے کے فوراً بعد کسی سے بات کئے بغیر چپ چاپ سو جائیں۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک یہ کیفیت گہری نہ ہو جائے اور عارضہ ختم نہ ہو۔
علاج: رات کو تازہ وضو کریں، صاف ستھرے سفید کپڑے پہنیں اور بستر پر ایک بالکل بے داغ سفید چادر بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں۔
آنکھیں بند کر لیں اور یہ تصور قائم کریں کہ آسمان پر گھنے سیاہ بادل چھا گئے ہیں جیسے بارش سے پہلے آتے ہیں اور ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی ہے۔
آپ اس بارش اور بوندا باندی کے پرکیف ماحول میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ پندرہ سے بیس (۱۵–۲۰) منٹ تک اس تصور میں محو رہیں۔
کامیابی کی علامت یہ ہے کہ آپ پر اتنی گہری بے خیالی طاری ہو جائے کہ آپ کو اپنے جسم پر بارش کی ٹھنڈی بوندیں گرنے کا حقیقی احساس ہونے لگے۔
مراقبے کے فوراً بعد کسی سے بات کئے بغیر چپ چاپ سو جائیں۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک یہ کیفیت گہری نہ ہو جائے اور عارضہ ختم نہ ہو۔
احتیاط و قواعد
آدھی بھوک کھائیں، کھانے کے آدھے گھنٹے بعد ۳ گھونٹ پانی؛ باوضو سفید لباس میں ۱۵–۲۰ منٹ بارش کا تصور کر کے خاموش سو جائیں۔