نماز میں دل نہ لگنے، وسوسوں، خیالات کے انتشار اور یکسوئی کے فقدان کا علاج (نماز کی نیت باندھتے ہی دونوں پیروں کے انگوٹھوں پر نظریں جمانا، اضافی برقی رو کا زمین میں ارتھ ہونا، اور نماز میں تلاوت کی جانے والی سورتوں کے ترجمے پر مکمل ذہنی توجہ)

Deep Concentration & Inner Presence in Namaz / Prayer (Fixing Gaze upon Bilateral Halluces / Big Toes upon Niyyah for Bio-Electric Grounding into Earth, Coupled with Meditative Mental Focus on Quranic Verse Translations)

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

انسان کے اندر گردش کرنے والی بوجھل اور منتشر برقی لہریں ہر وقت پیروں کے ذریعے زمین میں ارتھ (Ground) ہوتی رہتی ہیں۔ جب انسان نماز کی نیت باندھتے ہی اپنی نظر دونوں پیروں کے انگوٹھوں پر جما دیتا ہے تو وہ اضافی برقی چارج جو دماغ میں گھوم کر وسوسے اور خیالات کا انتشار پیدا کر رہا تھا، پیروں کے راستے زمین میں جذب ہو جاتا ہے جس سے خیالات فوراً ایک نقطہ پر مرکوز ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ جب انسان تلاوت کی جانے والی سورتوں کے معانی اور ترجمے پر غور کرتا ہے تو لاشعور کے تمام دریچے حکمتِ الٰہیہ کے لئے کھل جاتے ہیں اور نماز میں کامل سرور اور یکسوئی حاصل ہو جاتی ہے۔

ترکیب و طریقہ کار

جب بھی نماز کی نیت باندھیں، قیام کی حالت میں اپنی نگاہیں سیدھی دونوں پیروں کے انگوٹھوں پر جما دیں۔
اس عمل سے جسم کی منتشر برقی رو پیروں کے ذریعے زمین میں ارتھ ہو جائے گی اور دماغ وسوسوں سے خالی ہو کر یکسو ہو جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ نماز میں پڑھی جانے والی تمام سورتوں، دعاؤں اور اذکار کا لفظ بہ لفظ ترجمہ زبانی یاد کریں۔
نماز کی قرات کے دوران جو کچھ زبان سے ادا کر رہے ہوں، پوری توجہ اس کے معانی اور ترجمے پر مرکوز رکھیں۔
اس دو رخی مشق (پیروں کے انگوٹھوں پر نظر اور سورتوں کے ترجمے پر دھیان) سے چند ہی دنوں میں نماز میں بے مثال قلبی و ذہنی یکسوئی نصیب ہو جائے گی۔

احتیاط و قواعد

نماز کی نیت پر دونوں پیروں کے انگوٹھوں پر نظر جمائیں؛ نماز میں پڑھی جانے والی سورتوں کے ترجمے پر غور کریں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital