زیادہ سوچتے رہنا، نماز میں خیالات کی یلغار اور الجھن (اور خیالات کو رد نہ کرنے کا قانون و فلم کے مناظر کو جنت کے باغات میں تبدیل کرنے کی مشق)

Compulsive Overthinking & Thought Intrusions in Prayer (The Law of Non-Resistance & Cognitive Reframing of Worldly Imagery into Gardens of Paradise)

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوچنا بذاتِ خود انسانی ذہن کا سب سے عظیم جوہر ہے؛ تمام فلسفے اور ایجادات سوچ ہی سے وجود میں آتے ہیں۔ مسئلہ سوچنے میں نہیں بلکہ خیالات سے لڑنے اور انہیں جبراً روکنے کی کوشش میں ہے۔ جب انسان نماز یا عام حالت میں آنے والے خیال کو سختی سے رد کرتا ہے تو وہ دگنی شدت سے واپس آتا ہے۔ اس کے برعکس جب انسان خیال کو قبول کر کے اس کے اندر موجود مثبت و قدرتی پہلوؤں (جیسے فلم کے باغ کو دیکھ کر جنت کے باغات اور رنگ برنگے پھولوں) کی طرف موڑ دیتا ہے اور اسے نیا معنی پہناتا ہے، تو چند ہفتوں میں سوچ کا زاویہ بدل جاتا ہے اور اذیت ناک خیالات دائمی روحانی لطف و یکسوئی میں بدل جاتے ہیں۔

ترکیب و طریقہ کار

سب سے پہلے یہ بنیادی اصول تسلیم کریں کہ: ''یہ مت سوچئے کہ مجھے خیالات نہ آئیں، بلکہ خیالات کو آزادانہ آنے دیجئے۔''
خیال کو جبراً دھتکارنے اور رد کرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں۔
مثال کے طور پر اگر نماز یا تنہائی میں یہ خیال آ جائے کہ فلاں فلم بہت اچھی تھی، تو اس سے خوفزدہ ہونے کے بجائے فلم کے اندر دیکھے گئے قدرتی مناظر، ہریالی اور باغات کو اپنے انداز سے یاد کریں۔
اس منظر کو یہ معنی پہنا دیجئے کہ: ''جنت میں بھی تو ایسے ہی خوبصورت باغات ہوتے ہیں، وہاں بھی رنگ برنگے پھول اور پرسکون نظارے ہوں گے وغیرہ۔''
چند ہفتوں کی اس مستقل مشق سے ذہن کی جنگ ختم ہو جائے گی، سوچ کا زاویہ یکسر تبدیل ہو جائے گا اور آپ خیالات سے پریشان ہونے کے بجائے ان سے لطف اندوز ہونے لگیں گے۔

احتیاط و قواعد

خیالات کو جبراً روکنے کی کوشش نہ کریں؛ خیالات کو رد کرنے کے بجائے ان کے اندر کے قدرتی مناظر کو جنت کے باغات کا معنی پہنائیں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital