حد سے زیادہ حساسیت، معمولی باتوں پر رقت اور جذباتی کمزوری کا علاج (قدِ آدم آئینے کے سامنے خود کو روتے ہوئے دیکھنا، ۴۰ روز)

Hyper-Sensitivity, Involuntary Weeping & Emotional Fragility (Full-Length Mirror Crying Biofeedback & Self-Observation for 40 Days)

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

کسی کی تکلیف دیکھ کر دل بھر آنا ایک فطری جذبہ اور دل کا گداز ہے جو اللہ کو پسندیدہ ہے، لیکن جب یہ رقت بے قابو ہو کر معمولی دنیاوی باتوں پر آنسوؤں کا سیلاب بن جائے تو یہ شخصیت کی کمزوری بن جاتی ہے۔ قدِ آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے ہی روتے ہوئے عکس کو خود مشاہدہ کرنا شعور میں معروضی تفریق (Objective Detachment) اور لاشعوری آگاہی پیدا کرتا ہے، جس سے اعصاب خود بخود قابو میں آ جاتے ہیں۔

ترکیب و طریقہ کار

یہ حقیقت سمجھیں کہ دل میں گداز ہونا بری بات نہیں ہے، البتہ جب آنسو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق اور یاد میں بہتے ہیں تو وہی آنسو شخصیت کو بے پناہ فولادی اور مضبوط بنا دیتے ہیں۔
جب کبھی معمولی دنیاوی باتوں پر یا بلا وجہ رونا آئے، تو خود کو کمرے میں چھپانے یا تکیے میں منہ چھپانے کے بجائے فوراً ایک قدِّ آدم آئینے (Full-length mirror) کے سامنے کھڑے ہو جائیں۔
آئینے کے بالکل سامنے کھڑے ہو کر کچھ دیر تک خود کو غور سے روتے ہوئے اور آنسو بہاتے ہوئے دیکھیں۔
روتے وقت اپنے چہرے کے تاثرات اور آنسوؤں کا آئینے میں یہ معائنہ مسلسل ۴۰ روز تک دہرائیں۔
چالیس روز کی اس مسلسل خود مشاہداتی مشق سے بلا وجہ یا معمولی باتوں پر رونا آنے کی کمزور عادت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔

احتیاط و قواعد

معمولی باتوں پر رونا آئے تو قدِ آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو روتے ہوئے دیکھیں؛ کل مدت ۴۰ روز ہے۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital