ذہنی الجھنیں اور رائی کا پہاڑ بنانا (اور انسانی ذہن کی تین پرتیں، اطلاع فراہم کرنے والے پرت کی اصلاح و صبح جھٹ پٹے میں دو میل چہل قدمی)

Chronic Overthinking, Catastrophizing & Mental Entanglement (The Three Layers of Mind, Informational Layer Realignment & Dawn Twilight 2-Mile Walk)

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

قانونِ تخلیق کے تحت انسانی ذہن تین پرتوں کا مجموعہ ہے: ایک پرت خیال کو تصور بنا کر جسدِ خاکی میں منتقل کرتا ہے، جسدِ خاکی اس تصور کو معنی کا لباس پہنا کر خوشی یا غم کے نقوش بناتا ہے، اور یہ پرت بالکل غیر جانبدار رہتا ہے۔ تیسرا پرت اطلاع فراہم کرنے والا ہے؛ جب یہ پرت فطرت کے قوانین سے کٹ جاتا ہے تو وہ غیر حقیقی اور منفی معلومات فراہم کرنے لگتا ہے جس سے مایوسی، احساسِ کمتری اور رائی کا پہاڑ بنانے والی الجھنیں جنم لیتی ہیں۔ فطرت ہمیشہ پرسکون رہتی ہے۔ صبح جھٹ پٹے میں تیز چلنے سے ذہن دوبارہ فطرت کے اصولوں سے جڑ جاتا ہے اور تمام غیر حقیقی الجھنیں تحلیل ہو جاتی ہیں۔

ترکیب و طریقہ کار

روزانہ صبح منہ اندھیرے (صبحِ کاذب و صادق کے درمیانی جھٹ پٹے میں) بیدار ہوں۔
صبح کے اس جھٹ پٹے میں کھلی فضا میں روزانہ کم از کم دو میل تیز قدموں سے چہل قدمی کریں۔
زیادہ سے زیادہ تین ہفتوں کے اندر ذہن کے اندر چلنے والی الجھنوں اور رائی کا پہاڑ بنانے کی کیفیت سے نجات مل جائے گی۔
فطرت سے مکمل اور پائیدار ہم آہنگی کے لئے اس طریقے کو کم از کم تین ماہ تک جاری رکھیں۔

احتیاط و قواعد

صبح منہ اندھیرے جھٹ پٹے میں اٹھیں؛ روزانہ کم از کم ۲ میل لازمی ٹہلیں؛ ۳ ہفتے میں افاقہ شروع ہوتا ہے لیکن ۳ ماہ تک جاری رکھیں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital