خوش نویسی (اور بزرگوں کا فرمان: می نویس و می نویس و می نویس)
Aesthetic Calligraphy & Personality Projection (The Master's Scribe Axiom: 'Mi-Navees' & Line-Circle Alignment)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
خوش نویسی صرف تحریر نہیں بلکہ شخصیت کی نفاست اور اعصابی توازن کا آئینہ دار ہے۔ جیسا کہ بزرگوں کا فرمان ہے ''می نویس و می نویس و می نویس'' (لکھو، لکھتے رہو، بار بار لکھنے کی مشق کرو)۔ ایک مثالی خط کو سامنے رکھ کر اس کے دائروں اور لکیروں کی تسلسل سے نقل کرنا انگلیوں اور اعصاب کو سڈول بنا دیتا ہے۔
ترکیب و طریقہ کار
بزرگوں کے اس فرمان پر عمل کیجئے: ''می نویس و می نویس و می نویس'' یعنی لکھو، لکھتے رہو، بار بار لکھنے کی مشق کرو۔
کچھ بھی لکھیں، ایک اچھا خط سامنے رکھ کر اس کے مطابق دائرے اور لکیریں بنائیں۔
روزانہ باقاعدگی سے مشق جاری رکھیں، خط بہت اچھا ہو جائے گا، انشاء اللہ۔
کچھ بھی لکھیں، ایک اچھا خط سامنے رکھ کر اس کے مطابق دائرے اور لکیریں بنائیں۔
روزانہ باقاعدگی سے مشق جاری رکھیں، خط بہت اچھا ہو جائے گا، انشاء اللہ۔
احتیاط و قواعد
اچھا خط سامنے رکھ کر نقل کی جائے؛ مشق میں تسلسل اور روزانہ کا وقت مقرر کیا جائے۔