نویں جماعت کی بچی میں پڑھائی کا خوف، ناخن دانتوں سے لہولہان کرنا اور والدین کی سختی کا علاج (والدین کا دوستانہ رویہ و کھیل کود کی اجازت، رات کو ۲ جلیبیاں ایک پاؤ دودھ میں بھگو کر صبح نہار منہ کھلانا، اور سوتے وقت ہاتھوں پر نرم کپڑا باندھنا)

Adolescent School Phobia, Chronic Nail Mutilation & Parental Coercion (Parental Empathy, Sports Socialization, Soaking 2 Jalebis in Warm Milk Nightly for Morning Fasting Breakfast & Nightly Cloth Hand-Wrapping)

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

جب کمزور یا حساس بچی پر پڑھائی کا حد سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے اور والدین سخت سست کہیں تو بچی کے دل میں شدید خوف اور ضدی پن بیٹھ جاتا ہے، جس کی بدولت وہ اپنے اندر کا غصہ اور الجھن ناخنوں کو دانتوں سے چبا کر اور زخمی کر کے نکالتی ہے۔ مار پیٹ اور ڈانٹ ڈپٹ اس الجھن کو بڑھاتی ہے۔ دوستانہ ماحول اور کھیل کود بچی کے ذہنی تناؤ کو خارج کرتے ہیں۔ دودھ میں بھیگی جلیبیاں دماغی ریشوں اور اعصاب کو فوری گلوکوز اور نشوونما فراہم کرتی ہیں، جبکہ سوتے وقت ہاتھوں پر نرم کپڑا باندھنا بے خیالی میں ناخن چبانے کے سلسلے کو روکتا ہے۔

ترکیب و طریقہ کار

بچی کو ڈانٹنا، مارنا اور سخت سست کہنا فوری طور پر بند کریں اور مکمل دوستانہ اور ہمدردانہ رویہ اختیار کریں۔
اسے کھیل کود اور سہیلیوں کے ساتھ کھیلنے کے لئے روزانہ باقاعدہ وقت دیں۔
غذائی علاج: روزانہ رات کو دو (۲) تازہ جلیبیاں لے کر ایک پاؤ (250 گرام) نیم گرم دودھ میں بھگو کر ڈھانپ کر رکھ دیں۔
صبح نہار منہ ناشتے میں یہ دودھ جلیبی بچی کو کھلائیں۔
ناخن چبانے کی عادت توڑنے کے لئے روزانہ رات کو سوتے وقت بچی کے دونوں ہاتھوں پر نرم کپڑا باندھ دیں تاکہ نیند میں وہ انگلیاں منہ میں نہ لے جا سکے۔
ان تدابیر سے چند ہی ہفتوں میں بچی کا خوف دور ہو جائے گا اور ناخن بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔

احتیاط و قواعد

بچی سے سختی بند کر کے دوستانہ بنیں؛ رات ۲ جلیبیاں ۱ پاؤ دودھ میں بھگو کر صبح نہار منہ کھلائیں؛ رات ہاتھوں پر کپڑا باندھیں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital