کند ذہنی، لاپروائی اور غیر حاضر دماغی کا علاج (ذمہ داری تفویض کرنا، معیاری کتب کا مطالعہ، سیدھی کروٹ آسمان سے نور کی بارش کا تصور)
Intellectual Absentmindedness, Egocentric Carelessness & Cognitive Dullness (Structured Responsibility, Literary Enrichment & Right-Lateral Celestial Light Rain Meditation)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
جب کوئی انسان ذاتی مفاد میں ہوشیار ہو لیکن عمومی معاملات میں احمقانہ رویہ دکھائے تو وہ کند ذہن یا بے وقوف نہیں بلکہ لاپروا اور غیر حاضر دماغ ہوتا ہے۔ ایسی شخصیت کو عملی ذمہ داریاں سونپنے اور معیاری فکری کتب کے مطالعے سے شعور میں بالیدگی آتی ہے۔ رات کو دائیں (سیدھی) کروٹ لیٹ کر آسمان سے نور کی بارش کا خود پر برسنا تصور کرنے سے لاشعور کائناتی حکمت و فہم کے چشموں سے سیراب ہو جاتا ہے۔
ترکیب و طریقہ کار
پہلے اس غلط فہمی کو دور کریں کہ فرد بے وقوف ہے؛ درحقیقت وہ لاپروا اور غیر حاضر دماغ ہے۔ گھر کی کوئی اہم ذمہ داری اس کے سپرد کریں اور پابند کریں کہ یہ کام باقاعدگی سے سرانجام دے۔
مطالعے کے لئے اعلیٰ پائے کی ادبی و فکری کتب فراہم کریں، کیونکہ معیاری کتب پڑھنے سے فہم و شعور میں وسعت اور بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔
رات کو بستر پر سیدھی (دائیں) کروٹ لیٹ جائیں اور آنکھیں بند کر لیں۔
اس تصور کے ساتھ سو جائیں کہ: ''مجھ پر آسمان سے نور کی بارش ہو رہی ہے۔''
اس نوری تصور میں گم ہو کر سو جائیں؛ اس عمل سے فہم و فراست، دانائی اور سوجھ بوجھ میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔
ایک نیند لینے کے بعد بولنے یا بات کرنے کی اجازت ہے۔
مطالعے کے لئے اعلیٰ پائے کی ادبی و فکری کتب فراہم کریں، کیونکہ معیاری کتب پڑھنے سے فہم و شعور میں وسعت اور بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔
رات کو بستر پر سیدھی (دائیں) کروٹ لیٹ جائیں اور آنکھیں بند کر لیں۔
اس تصور کے ساتھ سو جائیں کہ: ''مجھ پر آسمان سے نور کی بارش ہو رہی ہے۔''
اس نوری تصور میں گم ہو کر سو جائیں؛ اس عمل سے فہم و فراست، دانائی اور سوجھ بوجھ میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔
ایک نیند لینے کے بعد بولنے یا بات کرنے کی اجازت ہے۔
احتیاط و قواعد
ذمہ داری دیں؛ معیاری کتب پڑھوائیں؛ رات کو سیدھی کروٹ لیٹ کر 'آسمان سے نور کی بارش' کا تصور کریں؛ سو کر اٹھنے کے بعد ہی بات کریں۔