اولاد کا نافرمان ہونا
Child Defiance / Behavioral Rectification
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
یہ بات بہت زیادہ غور طلب ہے کہ بچے ذہنی طور پر جو کچھ قبول کرتے ہیں اس میں آدھا حصہ ماں باپ کی طرزِ فکر اور گھر کے ماحول سے بنتا ہے اور آدھا حصہ باہر کے ماحول سے۔ اگر گھر کا ماحول پر سکون نہ ہو اور ماں باپ لڑتے جھگڑتے رہیں تو بچے بھی ماں باپ کی عادت اختیار کر لیتے ہیں۔ پھر یہ عادت ان میں پختہ ہو جاتی ہے۔ پہلے بہن بھائی آپس میں دست و گریباں ہوتے ہیں اور پھر ماں باپ سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیونکہ ماں باپ میں ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوتی اس لئے وہ بچوں کی عادت پر چشم پوشی اختیار کرتے ہیں نتیجے میں بچے گستاخ ہو کر نافرمان ہو جاتے ہیں۔ ایسے ماں باپ جن میں ذہنی ہم آہنگی ہوتی ہے یا اپنے مسائل کی تلخی کو اولاد کے سامنے ظاہر نہیں ہونے دیتے ان کی اولاد ماں باپ کی خدمت گزار ہوتی ہے۔ بیجا لاڈ پیار یا بات بے بات سختی بھی بچوں کو باغی بنا دیتی ہے۔ یہ مسئلہ نہایت تکلیف دہ ہے اللہ تعالیٰ والدین کو اس سے محفوظ رکھے۔ طرزِ عمل میں تبدیلی کے ساتھ نافرمان اولاد کیلئے اگر یہ عمل کر لیا جائے تو اس کی برکت سے اولاد فرمانبردار ہو جاتی ہے۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
ماں یا باپ میں سے کوئی بھی ایک بچہ کے سرہانے کے بالکل قریب کھڑا ہو۔
آیت کو ایک مرتبہ بلند آواز سے پڑھیں، آواز اتنی ہو کہ سنائی دے مگر اتنی نرم ہو کہ بچے کی نیند میں خلل نہ پڑے۔