کینسر یا سرطان
Malignant Carcinoma / Hematological Leukemia & Neoplasms
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
کینسر خون کو نقصان پہنچانے والا ایک مرض ہے۔ اس کی وجوہات میں چند وجوہ یہ ہیں: ۱۔ برقی رو کا زہریلا ہونا اور وائرس کی پیدائش: کوئی انسان جب ایک، دو یا چند خیالات میں خود کو گرفتار کر لیتا ہے تو وہ برقی رو جو خیالات کے ذریعے عمل بنتی ہے، زہریلی ہو جاتی ہے۔ یہ زہریلی رو چونکہ خون کے اندر بھی زہر پیدا کر دیتی ہے، اس لیے اس رو کے عدم توازن کی بناء پر خون میں خوردبین سے بھی نظر نہ آنے والے وائرس (VIRUS) بن جاتے ہیں۔ یہ کیڑے کسی ایک جگہ گھر بنا لیتے ہیں اور وہ برقی رو جو زندگی کے مصرف میں آنی چاہیے، ان کیڑوں کی خوراک بن جاتی ہے۔ ۲۔ سرخ ذرات (RBC) کا خاتمہ اور سفید ذرات کی کثرت: نتیجہ میں خوراک کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ جو برقی رو کے ساتھ خون میں دور کرتا ہے بجائے فائدہ کے نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کیڑوں کی خوراک خون کے وہ ذرات ہوتے ہیں جو سرخ ذرات یا RBC کہلاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ مریض کے اندر سرخ ذرات ختم ہو کر سفید ذرات کی کثرت ہو جاتی ہے اور یہ جسم کے لیے قابل قبول نہیں رہتے۔ چنانچہ یہ سفید ذرات لعاب یا بلغم بن کر خارج ہونے لگتے ہیں اور اتنی مقدار میں خارج ہوتے ہیں کہ آدمی بالآخر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ ۳۔ کینسر کی دوسری قسم (رگوں کا گلنا): کینسر کی دوسری قسم یہ بھی ہے کہ زہریلے ذرات ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔ ان کے جمع ہونے سے وہ رگیں گل جاتی ہیں جو اس ذخیرہ کے قریب ہوتی ہیں۔ نتیجہ میں خون کے نظام میں ایک بہت بڑا خلاء واقع ہو جاتا ہے اور اس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ ۴۔ علمِ روحانی کی رُو سے کینسر کا شعور و علاج: یہ تو ہوئے کینسر کے مظہرات یا ظاہری علامات۔ اب سنئے کہ علمِ روحانی کی رو سے کینسر ایک ایسا مرض ہے جو شریف النفس اور با اختیار ہے، سنتا ہے اور حواس رکھتا ہے۔ اگر اس سے دوستی کر لی جائے اور کبھی کبھی تنہائی میں بشرطیکہ مریض گہری نیند سو رہا ہو، اُس کی خوشامد کی جائے اور یہ کہا جائے: ”میاں کینسر! تم بہت اچھے ہو، بہت مہربان ہو، یہ آدمی بہت پریشان ہے۔ اسے معاف کردو، اللہ تمہیں اس کی جزا دے گا۔“ تو کینسر مریض کو چھوڑ دیتا ہے اور دوست داری کا ثبوت دیتا ہے۔ ۵۔ رنگوں کے اثرات اور سرخ ماحول کا قانون: علاوہ ازیں سُرخ رنگ میں جو برقی رو دوڑتی ہے وہی کینسر کی خوراک ہے۔ اسی لیے خون کے سرخ ذرات کے اندر دور کرنے والی برقی رو کینسر کی خوراک بن جاتی ہے اور کینسر کا مریض زندگی کو قائم رکھنے والی برقی رو سے محروم ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ چونکہ خون میں دور کرنے والی سُرخ رنگ کی برقی رو ہی کینسر کی خوراک بنتی ہے اس لیے اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ مریض کے ماحول کو پوری طرح سرخ کر دیا جائے۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
سرخ روشنائی اور نقوش کی تیاری: کھانے کا سرخ رنگ پانی میں گھول کر روشنائی بنائیں۔ اس سرخ روشنائی سے صاف کاغذوں پر 41 عدد مخصوص نقوش لکھیں۔
پہلا تعویذ: پہلا تعویذ مریض کے گلے میں مستقل پہن کر رکھیں۔
پینے کا عمل (40 دن): باقی 40 نقوش میں سے روزانہ ایک کاغذ پانی میں دھو کر مریض کو 40 دن تک مسلسل پلائیں۔
نیند کے دوران کینسر سے مکالمہ (خوشامد): تنہائی میں، جب مریض گہری نیند سو رہا ہو، دیکھ بھال کرنے والا شخص مریض کے پاس بیٹھ کر کینسر سے نیم آواز میں خوشامد کے انداز میں کہے: ”میاں کینسر! تم بہت اچھے ہو، بہت مہربان ہو، یہ آدمی بہت پریشان ہے۔ اسے معاف کردو، اللہ تمہیں اس کی جزا دے گا۔“