آسیب کا علاج
Treatment of Aseb (Demonic Possession / Spiritual Disruption)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
آسیب ایک ایسا مرض ہے جو دماغ سے تعلق رکھتا ہے اس کی زیادہ تر وجہ یہ ہوتی ہے کہ خون میں مٹھاس کی نسبت نمک کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ خون سارے جسم میں سے دور کر کے جب دماغ کے دو کھرب خلیوں میں گردش کرتا ہے تو دماغ کے وہ خلئے جو انسان کے اندر شعوری حواس بناتے ہیں متاثر ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ میں مریض کندھوں پر وزن محسوس کرنے لگتا ہے اور اس کی نظروں کے سامنے ایسی چیزیں یا صورتیں آنے لگتی ہیں جن کو وہ سمجھ نہیں سکتا اور نہ ان کا آپس میں رابطہ یا تعلق رکھ سکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اسے کسی عورت یا مرد کا ہیولا نظر آتا ہے چونکہ اس طرح غیب میں دیکھنا اس کی عادت نہیں ہے اس لئے وہ خوف زدہ ہو جاتا ہے اور ایسی حرکتیں کرنے لگتا ہے جو شعوری حدود سے باہر ہوتی ہیں، بعض اوقات یہ تاثر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ شعور میں تعطل واقع ہو جاتا ہے اور اس کے حواس لا شعوری تحریکات کے تابع ہو جاتے ہیں ۔ اب وہ کوئی بات زمین کی کہتا ہے ، کوئی آسمان کی کبھی بے ہوش ہو جاتا ہے اور خود بخود ہوش میں آجاتا ہے، کبھی بے بات ہنستا ہے اور کبھی کسی وجہ کے بغیر رونے لگتا ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ بھٹکی ہوئی روحیں جن کی طبیعت میں تخریب ہوتی ہے ۔ مرنے کےبعد ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتی ہیں جو دماغی اعتبار سے کمزور ہوں اور جب انہیں اپنی تخریب کاری کے لئے ایسا شکار مل جاتا ہے تو وہ اسکے سامنے آجاتی ہیں اور اس کے شعور کو معطل کر دیتی ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ ایک کاغذ پر